میسورو،9؍دسمبر (ایس او نیوز) بی جے پی اب تک آئین ہند کو سمجھ نہیں سکی۔ دستور ہند میں ایک شخص کو کئی حقوق دیئے گئے ہیں۔ بی جے پی شہریوں کو حاصل حقوق سے یکسر نابلد ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا، ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں منتقلی، ایک شخص کو دستور ہند میں دیئے گئے اختیارات ہیں۔ بی جے پی،ان اختیارات پر پابندی عائد کرتے ہوئے دستور ہند کو تبدیل کرنے پر تل گئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ بی جے پی کو اب تک دستور ہند سمجھ میں نہیں آیا۔ یہ باتیں سابق ریاستی وزیر اڈاکٹر ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا نے کہی۔
بروز منگل ایک اخباری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی بی جے پی حکومت صرف آر ایس ایس کے مفادات کی حفاظت کی خاطر ریاست کو سیاسی انارکی اور فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک رہی ہے۔ بی جے پی دستور ہند میں دیئے گئے بنیادی حقوق کو تبدیل کرنے چلی ہے۔ بی جے پی جاہلوں جیسا رویہ اپنا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بسو راج بومئی بھی غیر دستور رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بسو راج بومئی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ دستور ہند میں دیئے گئے حقوق کی بدولت آج وزیراعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہندو دھرم چھوڑ کر دوسرا دھرم اختیارکرنا شخصی اختیار ہے۔ ہندو دھرم سے دوسرے دھرم میں منتقلی اور ہندو دھرم کی حفاظت کا نظریہ رکھتے ہوئے سیاست کرنا سماجی انارکی ہے۔ اس طرح سماج و معاشرہ میں عدم روا داری اور ظلم وتشدد کے واقعات رونما ہوں گے۔ اگر حالت ایسی ہی رہی تمام مظلوم طبقات کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی مانند بودھ مت اختیارکرنا پڑسکتا ہے۔ پھر اس بنیاد پر سیاسی اصول طے کرنا پڑسکتا ہے۔